Higher Poetry: Shah Hussain (Rehmt. A) — Ghoom Cherkhiya Ghoom by Pathanay Khan


There’s is higher poetry, touching the epitome of Love for life and God. And if there’s is one like Pathanay Khan (پٹھانے خان) to sing it with his endlessly heart wrenching voice; the ebb and flow, ever engaging yet volatile melodious tone with a hint of pleasure in pain; one’s heart simply sinks more deeper in love.

‘Ghoom Cherkhiya Ghoom’, it explains none but the ultimate relationship between ones soul and the mortal body. Soul which is enchanted in the cage of body.

Cherkha (چرخہ) is symbolises how body, spirit and soul are tied through with trivial yet powerful bond.

گھوم چرخیا گھوم
گھوم چرخیا گھوم
تیری کتن والی جیوے
کتن والی جیوے
نالے وٹن والی جیوے
گھوم چرخیا گھوم

بڈھا ھویا شاہ حسین
ڈنڈی جھریاں پئیاں
اوٹھ سویرے ڈھونڈن لاگوں سانجھ دئیاں جوگئیاں
ھر دم نام سنبھال سائیں دا تے توں استھر تھیواں
گھوم چرخیا گھوم
گھوم چرخیا گھوم

پنجنجن ندیاں دے منہ آیا کت چاھے جیوے
چرخا بولے سائیں سائیں باھر بولیں توں
کھے حسین فقیر سائیں دا میں ناہی سب توں.

.گھوم چرخیا گھوم
تیری کتن والی جیوے
کتن والی جیوے
نالے وٹن والی جیوے
گھوم چرخیا گھوم

(کلام حضرت شاہ حسین)

(Translation adopted is as under)

Spin wheel, spin
Spin wheel, spin
The spinner, reeling the thread
forever may you live, while you spin
Saying, Near Him, I fear Him
With Him I tremble
Spin wheel, spin

Spinning wheel says, Lord, Lord
Thread says, You
Shah Husain, a fakir for the Lord
Says, I am nothing, all is You
Spin wheel, spin

Speak His name, breathe His name
And nothing can shake you
From flood of five rivers choose one
Live where it takes you
Spin wheel, spin

Spin wheel, spin
The spinner, reeling the thread
forever may live, while you spin
Saying, Near Him, I fear Him
With Him I tremble.
Spin wheel, spin.

Spin wheel, spin
Spin wheel, spin….

گھوم چرخیا
گھوم اے چرخے گھوم
تجھے کاتنے والی (ہستی) کی خیر ہو
نلیاں (دھاگے کا گولا) بٹنے والی (ہستی) کی خیر ہو

یہ زمین بھی گول ہے ، چاند ، سورج بھی گول ہیں ، اس کے علاوہ تمام سیارے، ستارے بھی گول ہیں، کہکشائیں بھی دائرے کی صورت ہیں
چونکہ یہ ساری کائنات ایک محور کے گرد گھوم رہی ہے ، اس لیے حضرت شاہ حسین ؒ نے اسے چرخے سے تشبیہ دے کر ، داد دینے والے انداز میں فرمایا ہے کہ گھوم اے چرخے گھوم
جو ذات واحد و لا شریک ذات تجھے کات (گھما) رہی ہے ، اس کی خیر ہو (یعنی اس کی عظمتوں کو سلام)
کائنات میں ہر دم ستارے ٹوٹنے،بجھنے اور نئے ستارے وجود میں آنے کا عمل جاری ہے ، اسے شاعر نے نلیاں بٹنے سے تشبیہ دے کر ذات خدا وندی کی حمد کی ہے

شاہ حسینؒ میاں !! اب تم بوڑھے ہو گئے ہو
دانت تمہارے سب ٹوٹ پھوٹ گئے ہیں
تم انہیں صبح اٹھ کے ڈھونڈ رہے ہو
جو صبح صادق کے وقت ہی جا چکی ہیں
اس شعر میں حضرت شاہ حسین ؒ اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں ، کہ شاہ حسین اب تم بوڑھے ہوتے جا رہے ہو
تمہاری آنکھ اب کھلی ہے جب عمر ساری گزر چکی ہے ۔ اس کی مثال یوں ہے کہ جو صبح صادق کے وقت جا چکے ہیں تم انہیں صبح کو سورج طلوع ہونے کے بعد ڈھونڈ رہے ہو، یعنی وقت تو تم نے گنوا دیا ، اب بے فائدہ کوشش میں لگے ہو

ہر دم مالک کے نام کا ذکر کرتے رہو
تب تم پاک ہو سکتے ہو
اس شعر میں ذکر الہٰی کی فضلیت اور ترغیب دی ہے ، کہ بندے کو چاہیے وہ ہر وقت اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کرتا رہے
اسی سے روح کی کثافت اور بوجھ دور ہوگا ، اور روح کو غذا ملے گی ، اور وہ ذکر کی برکت سےگناہوں کی سیاہی اور آلودگی سے پاک صاف ہوتی جائے گی

چرخہ سائیں سائیں بولتا ہے اور بائیڑ سے گھوں گھوں کی آواز آتی ہے
اپنے پروردگار کا فقیر شاہ حسین ؒ یہی کہتا ہے کہ میں کچھ بھی نہیں سب کچھ تو ہے ۔

جب چرخہ کاتنے کیلئے گھمایا جاتا ہے، تو ہر چکر پر اس سے سائیں سائیں جیسی آواز آتی ہے
اور بائیڑ جس پر دھاگہ لپٹتا جا رہا ہوتا ہے ، اس سے گھوں گھوں کی آوازیں آتی ہیں
اللہ والے فنافی اللہ کے مقام پر ہوتے ہیں اس لیے انہیں دنیا کی ہر آواز ہر مظہر میں اللہ کے حسن کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔
اب ذات حق کے مشاہدے میں غرق ہو کر فقیر شاہ حسین اپنی ذات کی نفی کر کے کہتا ہے ، کہ میں کچھ بھی نہیں سب کچھ اللہ کی ذات ہے

کچھ ایسا ہی مولانا روم ؒ کا بھی شعر ہے :۔
خشک تار و خشک چوب ، خشک پوست
از کجا می آید ایں آوازِ دوست
تار بھی خشک ہے ، لکڑی بھی خشک ہے ، اور کدو بھی خشک ہے
پھر یہ محبوب کی آواز کہاں سے آ رہی ہے

Advertisements